بھائی جان سلام خلوص نثار احمد اختر

بھائی جان سلام خلوص نثار احمد اختر

انسان کی بقا اسی میں ہے کہ انسان کے کام آتا رہے۔ دنیاوی جاہ و جلال‘ شان و شوکت تو سب دنیا تک ہے اور اسے ہی ملتی ہے جس کے نصیب میں کرنیں ہوں یا جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر آیا ہو۔ حرج ہی کیا ہے اگر ہم اپنے وسائل اپنے ماحول سے قطع نظر نیچے گرے ہوئے لوگوں کو سہارا دے کر کھڑے ہونے کے قابل بنا دیں۔ ان میں اتنا حوصلہ اتنی سکت بیدار کردیں کہ وہ اس دنیا کے انسانوں سے آنکھ ملا کر بات کر سکیں۔ لیکن اس نفسا نفسی کے دور میں کون ہے جو اتنی بات سوچے‘یہاں تو جو باعمل ہیں وہ ہی اپنے ماحول سے‘ احباب سے اس حلقے سے دل گرفتہ ہیں جہاں ان کی جڑیں جاتی ہیں۔

نثار احمد اختر

جاں نثار کا خاندانی نام جاں نثار حسین اخترؔ ہے۔ پیدائش 08 فروری 1914ء کو گوالیار میں ہوئی۔ ان کا آبائی وطن خیرآباد ضلع سیتا پور (اودھ) ہے۔ ان کا سلسلہ نسب سادات کے اس گھرانے سے ہے۔ علامہ تفضل حسین جاں نثار اختر کے پرداد تھے۔ علامہ کے بھائی حجرت معشوق علی شاہ بھی ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ آج بھی خیرآباد میں شاہ صاحب کی درگاہ پر ان کا یوم وفات ایک شاندار عرس کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ جاں نثار اخترؔ کے دادا سید احمد حسین تھے جن کی شادی خیرآباد کے مشہور خاندان میں سید النساء بیگم سے ہوئی جو علامہ فضل امام خیر آبادی کی صاحبزادی اور علامہ عبدالحق خیرآبادی کی چھوٹی بہن تھیں۔ اور خود بھی بہت بڑی عالمہ اور فقیہ تھیں اور بطور شاعر حرماںؔ تخلص کرتی تھیں۔
جان نثار کے دادا کی دو اولادیں تھیں ۔ سید محمد حسین بسملؔ اور سید محمد افتخار حسین مضطر ، سید محمد افتخار حسین نے بحیثیت شاعر بہت شہرت اور ناموری حاصل کی۔ اور آج اردو کا کون طالب علم ایسا ہے جو مضطرؔ خیرآبادی کے نام سے واقف نہیں ۔ یہی افتخار حسین مضطرؔخیرآبادی جاں نثار اخترؔ کے والد تھے۔
وہ 18؍ اگست1976ء کو بمبئی میں انتقال کرگئے تھے۔
Next Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *