شہر تونسہ شریف

تواریخی حالات شہر تونسہ شریف

تواریخی حالات شہر تونسہ شریف
ڈیرہ غازیخان کے ضلع میں تونسہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جو رود سنگھڑ کے کنارے سنسان ریگستان پر آباد ہوا نہ سبزی نہ ترکاری نہ بازار نہ کوئی دلفریب نظارہ۔ محض کاشتکاروں کے جھونپڑے تھے۔ جب حضرت سلطان التارکین فخر الاولیاء شاہ سلیمان صاحبؒ کوہ سلیمان سے تشریف لائے اور علوم ظاہری و باطنی میں یکتائے زمانہ ہوئے۔ ان کے زہد و اتقاء۔ تزکیہ نفس اور فیفرسانی کا شہرہ تمام عالم میں پھیلا تو پنجاب، ہندوستان، کشمیر، لنکا، بلوچستان، افغانستان، ایران اور عرب سے ہزارہا مخلوق بغرض حصول تعلیم و فیض روحانی آنا شروع ہوئی۔ اس گاؤں کو چار چاند لگ گئے دیار و امصار میں اس کا آوازہ بلند ہوا۔ منگروٹھہ سے تحصیل کا صدر مقام اسی گاؤں میں منتقل کیا گیا۔ علماء، فضلاء اور مشائخ کا ایک مجمع نظر آیا۔ اب تونسہ خالی تونسہ نہ رہا۔ بلکہ تونسہ شریف ہو گیا۔ امیر و غریب۔ قوی و ضعیف، ادنی و اعلیٰ ایک کشش مقناطیسی سے خودبخود کھچ کر آنے لگے۔ اور بالکل یہ شعر صادق آیا۔
ہر کجا چشمہ بود شیریں مردم و مرغ مور گرد آیند
محل وقوع: تونسہ شریف دریائے سندھ کے مغربی کنارہ سے چھ میل دور ہے۔ اس کاعرض شمالی 31 درجہ اور طول مشرقی 70 دقیقہ ہے۔ اس وقت تحصیل سنگھڑ کا صدر مقام ہے۔ مگر اس کی شہرت و وقعت محض اس عالی شان خاندان کے قیام کی وجہ سے ہے۔ جس کا پہلا فرد فخرالاولیاء کے لقب سے ملقب ہے۔ یعنی حضرت خواجہ سلیمان غوث زماں ہے۔

Next Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *