تونسہ شریف شہر آبادی و حکومت

تونسہ شریف شہر آبادی و حکومت

آبادی و حکومت: توازیخ سے ثابت ہے کہ پہلے پہل اس گاؤں میں قوم چچہ و بھٹہ سکونت پذیر ہوئی اور عرصہ دراز تک اس علاقہ میں ان کا عمل دخل رہا۔ اس وقت ہم کو اس پرانی روایت کے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ اسلام سے پہلے یہ علاقہ بالکل کفرستان تھا۔ سنگھر منگھر دو بھائی یہاں برسراقتدار رہے۔ سنگھر کے نام سے رود کا نام مشہور ہوا۔ اور منگھر سے منگروٹھہ کا شہر موسوم ہوا۔ جو تونسہ مقدسہ سے بہت پرانا اور عرصہ دراز تک اس علاقہ کا دارالریاست رہا ہے۔ جب بلوچ لودھیوں کی عہد حکومت میں کوہ سلیمان کے دروں سے اس تمام علاقہ میں پھیل گئے۔ جو شکار پور سے ڈیرہ اسماعیل کی شمالی سرحد تک دامان کے نام سے موسوم ہے۔ تو قوم چچہ اور بھٹہ کا اقتدار کم ہونے لگا۔
اتنا یاد رکھنا ضروری ہے: کہ بلوچ لوگ محض مویشی چرانے کے لئے اس علاقہ میں وارد ہوئے اور جب ان کے ایک سرکردہ نے جو قوم مررانی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس علاقہ میں اپنا تسلط جمایا۔ جہاں چورٹہ اور قدیم شہر ڈیرہ غازیخان واقع تھا۔ تو ان کی دیکھا دیکھی دیگر بلوچ سردار بھی ضلع کے طول و عرض میں آہستہ آہستہ اپنا قدم جمانے لگے۔
حاجی خان نے جو غازی خان کا والد تھا۔ حاجی غازی کی بستی بنائی جو بعدہ ڈیرہ غازیخان کا عظیم الشان شہر بنا جس کی آبادی اپنے عروج کے زمانہ میں 25 ہزار تھی۔ اور مغربی پنجاب میں شہر ملتان چھوڑ کر سب سے بڑا شہر تسلیم کیا جاتا تھا۔ شہر ڈیرہ غازیخان بنیاد 1484ء بمطابق 887ھ رکھی گئی۔
جنوبی دامان کے علاقہ میں جب حاجی خان مررانی نے اپنا تسلط جمایا۔ تو اس سے چند سال پہلے سہراب خان ہوت بلوچ شمالی دامان میں اپنا قبضہ کر چکا تھا۔ سہراب خان کی اولاد میں اسماعیل خان ہوت بلوچ نے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی بنیاد رکھی۔ جس کا سال 23ماگھ 1619بکرمی بیان کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان دریائے سندھ سے غرقاب ہوا۔ اسماعیل خان کے بھائی فتح خان نے ڈیرہ فتح خان ایک شہر آباد کیا تھا۔ یہ شہر بھی دو دفعہ دریا کی نذر ہوا۔ اور اب تیسری جگہ آباد ہے۔ مگر اس کی حیثیت ایک گاؤں سے زیادہ نہیں ہے۔ موجودہ شہر ڈیرہ اسماعیل خان 1881 بکرمی مطابق 1824ء میں نواب سدوزئی کا آباد کردہ ہے۔ جس کی اولاد اب تک نوابان ڈیرہ کے معزز خطاب سے مشہور ہے۔

Previous Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *