زندگی سوال بنی نثار احمد اختر

زندگی سوال بنی نثار احمد اختر

زندگی سوال بنی
اس دن بڑی تیز چلچلاتی دھوپ پڑ رہی تھی۔میں بس سٹاپ سے بمشکل گھر پہنچی۔ سارا بدن گرمی کے مارے انگارے کی طرح دہکنے لگا تھا۔ پسینے سے کپڑے بھیگ چکے تھے۔ اور منہ لال سرخ ہو چکا تھا۔ میں ہانپتی کانپتی اپنے گھرمیں داخل ہو گئی۔ بڑے کمرے میں سے آتی ہوئی تیز تیز آوازوں اورپھرہنسی کے فوارے سے میں دم بھرکو ٹھٹکی اور پھر آگے بڑھ گئی۔ کتابوں کا پلندہ اپنی جگہ پر رکھ کر میں برآمدے میں آ کر پلنگ پر لیٹ گئی پنکھے کے نیچے ابھی چند لمحے بھی نہ رُکی تھی کہ امی آ گئیں۔
”آگئی ہو بیٹی! میں انتظار ہی کر رہی تھی“ وہ مسکرا کر بڑے دلار سے بولیں ”چلو ہاتھ منہ دھو لو بڑے کمرے میں خالہ زینب تمہیں ملنے کو آئی ہے …… چلو؟
”اکیلی ہے خالہ زینب؟ میں نے پوچھا“ آوازیں تو کئی آ رہی ہیں“۔
تم آؤ تو سہی۔ جلدی کرو کب سے انتظار کر رہے ہیں سب لوگ“۔
میں نے ہاتھ منہ دھویا۔ دوپٹہ سلیقہ سے اوڑھا اور اندر چلی گئی۔ وہاں خالہ زینب اور ایک بھاری بھر کم عورت تھی جو آج سے پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی۔ میں ان کے پاس گئی انہوں نے پیار دیا اور پھر میرے سکول اور تعلیم کے بارے میں مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔ میں کھٹک تو پہلے ہی گئی تھی اب پورا یقین ہو گیا کہ یہ عورت رشتے کے لئے آئی ہے میں سیدھے سادے انداز میں جواب دیتی رہی۔ اتنے میں امی چائے لے کر آ گئیں اور بنا کر سب کو دینے لگیں تو میں اٹھ کر چلی آئی۔ باہر نکل کر میں لمحہ بھر کر کھڑکی کے پاس رکی تو سنا کہ وہ نو آمدہ موٹی عورت کہہ رہی تھی۔
”بہن! ہمیں تو ہر طرح سے پسند ہے۔ اللہ عمر دراز کرے بڑی ہونہاراور عقلمند ہے تم کب آؤ گی“۔
میں نے اتنا ہی سنا اور آگے بڑھ آئی۔ اپنے کمرے میں آ کر بستر پر دراز ہو گئی۔
میرے لئے یہ شادی کی بات یا شادی کے مشورے نہ تو اچنبھے کی بات تھی اور نہ ہی میں کہتی ہوں گھنٹوں میں سوچتی رہی مجھے یوں محسوس ہوا مجھے کچھ ہوا نہیں میری ایسی عادت نہیں۔ میں ایک سمجھدارلڑکی تھی اور جس بات پر میں نے اکثر اپنی تنہائیوں میں سوچ رکھا ہو اس سے یک لخت شرماتی بھی کیوں۔ میرے نزدیک شادی ایک ٹھوس حقیقت تھی جو ہونا ہی تھی اور نہ مجھے اس سے ڈر تھا اور نہ ہی شرم۔ جو ازل سے ہوتا آیا ہو اس سے گھبرانا یا شرمانا کیسا۔ میں جانتی تھی کہ شادی والدین کا فرض ہے اور یہ فرض اک نہ ایک دن ادا ہو کے ہی رہنا ہے مجھے کسی کے گھر جا کے آباد ہونا ہے اور زندگی کو اک نئی ڈگر پرچلانے کے لئے میں ذہنی طور پر تیار بیٹھی تھی ہاں اس وقت مجھے صرف اتنا خیال ضرور آیا کہ یہ لوگ کہاں کے ہیں اور کون ہیں بس مجھے صرف اسی سوال کے جواب کی طلب تھی۔ شام تک یہ بھی سن لیا۔ یہ لوگ ہمارے ہی شہر کے رہنے والے تھے اور خالہ زینب تو واسطے کے طور پر ان کے ہمراہ تھی۔ پتہ چلاکر لڑکا ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازم ہے اور والدین کا اکلوتا لڑکا ہے۔
چند روز کے بعد گھر کے ماحول میں یہ خبر بھی گشت کرنے لگی کہ رشتہ طے ہو گیا ہے اور دو ماہ بعد شادی کا دن طے پا گیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ میرا دل ذرا سا ہو لایا۔ وہ اس لئے کہ جن بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی عمر کا طویل حصہ ہنستے کھیلتے گزارا تھا ان سے دور ہو جاؤں گی اور یہ میرے لئے پرائے سے بن کر رہ جائیں گے۔ دوسرے ہی لمحے میں نے اپنی اس لمحاتی پریشانی پر گرفت پالی یہ اور میں ایک ہی شہر میں تو ہوں گے اور ملتے رہا کریں گے۔ ایسی کوئی خاص پریشان کن بات تو نہیں۔
دو ماہ بیت گئے اور وہ دن بھی آ گیا۔ میرے والد صاحب نے عام سادہ طریقے سے میری شادی کر دی۔ میں سکھی سہیلوں کے سنگ چند قدم چل کے ڈولی میں آ بیٹھی۔ کہاروں نے ڈولی اٹھائی تو ایک الوداعی گیت بجنے لگا میں نے محسوس کیا کہ میرا جی بھر آیا ہے۔ اس لمحے پہلی دفعہ میرے اندر یہ احساس بجلی کے کوندے کی طرح لپکا کہ نہ جانے جہاں جا رہی ہوں وہاں کیسی گزرے گی‘ کیسے لوگ ہوں گے۔ ان سے تو چھوٹ چلی۔ اگر وہ اچھے لوگ نہ ہوئے تو کیا کروں گی؟ میں نے اپنے آنسو رومال میں جذب کر لئے۔ یہ میں رو رہی تھی اپنے مستقبل کا سوچ کے۔
نئی نویلی دلہن کے کچھ ارمان ہوتے ہیں لیکن میں محمود کی دلہن کیا بنی‘ ہر ارمان کھو بیٹھی۔ میں ایک حقیقت پسند لڑکی تھی اور مجھے کسی قسم کے فضول رسم و رواج سے محبت بھی نہ تھی لیکن یہ تو میرا حق تھا کہ محمود اس گھر میں میرا استقبال اپنے جیون ساتھی کے طور پر ہی کرتے۔ سہاگ رات بھی وہ مجھ سے مطلق نہ بولے۔ میکے سے واپسی پر اگلی راتوں میں بھی یہی سرد رویہ دیکھ کر میں اداس ہو گئی کیا میں زبردستی ان کے پلے باندھ دی گئی ہوں جو یہ مجھے مصیبت سمجھے بیٹھے ہیں اور بادل نخواستہ جھیل رہے ہیں۔ میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگی میری طبعیت پریشان رہنے کی وجہ سے صحت پر اثر پڑنے لگا۔ حتیٰ کہ بخار ہو گیا بخار کیا ہوا۔ سب لوگ بدک گئے۔ کوئی میرے قریب نہ آتا۔ نندوں بھاوجوں کے تو بڑے ساتھ ہوتے ہیں لیکن میری نندوں نے میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا میری تیمارداری تو کیا کرتیں خالہ نے ایک آدھ بار جھوٹے منہ پوچھا۔ نہ میری خوراک کی کسی کو فکر ہوئی۔ نہ کوئی پاس بیٹھتا کہ پانی ہی پکڑا دے۔ میں نے جب اس حد تک ان لوگوں کا اخلاق دیکھا تو سر تا پا جل گئی۔ میرا رواں رواں چیخنے لگا۔ صائمہ تو کن پتھر دل لوگوں کے درمیان آ گئی ہے یہ تیرے کچھ نہیں لگتے۔ پر تو تو ان کی کچھ لگتی ہے۔ تو تو ان کے گھر کی بہو ہے تو نے تو ان سے کوئی برائی نہیں کی جو بدلہ لیں تو تو ابھی کل آئی ہے۔ شکل تیری بری نہیں۔ تو آخر یہ سب کیا ہے۔
ہفتہ بھرمیں چار پائی پر پڑی رہی۔ اب اور مصیبت پیدا ہو گئی۔ طعنے ملنے لگے مجھے سنا سنا کر باتیں ہونے لگیں ”کھانے کو تو سب بیٹھ جاتے ہیں کام کے نام سے گولی لگتی ہے“ میں نے خدا سے دعا کی ”یااللہ مجھے صحت دے تاکہ میں اٹھ کے کام کروں اور ان سب پتھر دلوں کو خدمت سے موہ لوں“۔ دوائی تو مجھے کسی نے لا کر نہیں دی تھی بس چند روز بعد قدرتی طور پر مجھے آرام آ گیا اور میں اٹھ کر کام میں جٹ گئی اب قدرے ان لوگوں کو سکون ہوا۔ ایک رات محمود سے گھر والوں کی بے اعتنائی کا شکوہ کیا اور اسے بھی طعنہ دیا کہ آپ لوگ مجھے دوائی بھی لا کر نہیں دیتے رہے میں نے یہ باتیں بڑے پیار سے لاڈ کے انداز میں کہی تھیں مگر محمود سیخ پا ہو گیا۔
”تم میرے گھر والوں کو برا سمجھتی ہو“ اور کرتی خود بہانے بازیاں ہو۔ کام کیوں نہیں کرتی ہو۔ ہلکا بخار ہی تو تھا۔ کام کیوں چھوڑ دیا۔ وہ تمہاری نوکر تھوڑا ہی ہیں کہ پکا ریندھ کر تمہیں پلنگ پر بٹھا کر کھلائیں۔ دوائی میں کیوں لا کے دیتا۔ بخار ہی تو تھا تم کون سا مری جارہی تھیں“۔
یہ تھا اس شخص کا جواب جو میرا شریک حیات تھا جسے شریک غم بھی کہا جاتا ہے۔ محمود کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میرے وجود کے شیشے کرچی کرچی ہو گئے۔ زندگی کے پہلے ہی موڑ پر مجھے احساس ہوا کہ میں مصلوب کر دی گئی ہوں۔ میرا دل کٹ کے رہ گیا۔ اب کچھ کہنا یا بولنا فضول تھا۔
میرے دن بڑے عجیب سے گزرنے لگے ………… دن بھر کام کرتی مگر کوئی خوش نہ تھا۔ الٹا طعنے ملتے۔ یہ کیوں کیا۔ یہ کیوں نہ کیا۔ میری چاروں نندیں میرے نقص پکڑنے میں لگی رہتیں۔ جہاں کوئی غلط کام ہوا شروع ہو گئیں۔ اگر کوئی محلے کی عورت ان کو روکتی تو کہتیں۔
”تمہیں کیا پتہ ہے خالہ یہ ہم ہی ہیں جو گزارہ کر رہی ہیں۔ کام تو کرتی نہیں۔ ہاں جب کوئی آ جائے تو دکھاوا ضرور کرتی ہے ورنہ لیٹی رہتی ہے“۔
میں چپ چاپ ان کے منہ کی طرف دیکھ کر رہ جاتی جب محمود ہی میرے ساتھ نہ تھا تو کسی سے کیا شکوہ تھا۔ دو ہی ماہ میں میں غم کے ہاتھوں بے حد کمزور ہو گئی میرے لئے تو اس سے بڑا غم اور کوئی نہ تھا۔ نہ تو میں کام چور تھی اور نہ بے ایمان یا چور۔ نہ ہی آوارہ مزاج تھی۔ بدصورت بھی نہ تھی بلکہ لوگ میری تعریفیں کیا کرتے تھے پھر میں کیوں ان کا نشانہ بن کے رہ گئی۔ بس اسی غم نے مجھے کمزور کردیا۔ اپنے میکے گئی تو سب لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ ہر ایک نے طرح طرح کے سوال کئے میں کوئی جواب نہ دے سکی۔ کہتی بھی تو کیا۔
چند روز گزار کر میں پھر سسرال آ گئی۔ سسرال والے انہی ہتھیاروں سے لیس تھے۔ میری زندگی جلتا الاؤ بن کے رہ گئی۔ میں کس سے کچھ بھی نہ کہتی۔ اپنے غم کو غلط کرنے کے لئے رات کو مطالعہ کرنے کی عادت اختیار کی لیکن میرا رات کو بیٹھ کر کتابیں پڑھنا سب سے بڑا عیب گنا گیا اور مجھے کہدیا گیا کہ رات کو مطالعہ کا بہانہ کر کے نہ معلوم کیا کرتی رہتی ہے۔ مطالعہ کا سہارا بھی گیا۔
میں نے شادی سے پہلے تک کی زندگی بڑے سکون کے ساتھ گزاری تھی۔ والدین کے سلجھے پن نے میری طبیعت میں ٹھہراؤ پیداکردیا تھا اور مجھے دعویٰ تھا کہ میں ہر قسم کے حالات میں بڑے صبر کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہوں مگر اب صبر و ضبط کی تاب مجھے ختم ہوتے ہوئی معلوم ہوئی۔ میں اکثر روتی میرے درد کو تو سننے والا بھی کوئی نہ تھا لیکن میری اداس طبعیت بھی میرے لئے ایک اور عیب بن گئی خالہ کو اکثر کہتے سنا۔
”اس گھر میں نحوست پھیلا رکھی ہے“۔
خدایا۔ میں مقدر‘ قسمت‘ بخت کی قائل نہ تھی میں کہا کرتی تھی کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں لیکن اب پتہ چل گیا کہ ڈھکوسلے نہیں سب سے بڑی حقیقت ہیں۔ یہ میری قسمت کا چکر نہیں تو اور کیا ہے کہ میں اپنے لہو سے ان کے دل میں چراغ روشن کرنے کی سعی کرتی ہوں مگر وہ کہتے ہیں کہ دل میں آگ لگی ہے۔ میں ان کی راہ میں پھول بچھانے کی کوشش کروں تو وہ کہتے ہیں کہ راہ مسدود کرتی ہے میں کام بھی کروں تو کام چور کہی جاؤں۔ اپنے غم کو دل میں چھپائے رکھوں اور خموشی سے ایک طرف بیٹھ جاؤں تو کہا جائے کہ نحوست پھیلاتی ہے۔ اپنا غم بھلانے کو کتابوں کا سہارا لوں تو آوارگی کے طعنے ملیں۔ اپنے شوہر کی آخری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں تو وہ بات ہی نہ سنے۔ یہ میرے مقدر کی کمی ہی تو ہے ورنہ میں نے تو ہر طرح سے اپنی سی کر دیکھی لیکن رہی بدبخت ہی۔ اگر کسی دن نہا دھو کر کپڑے پہن لوں تو آوارگی کے وہ طعنے ملیں کہ کانپ کانپ جاؤں۔ یا خدا میں کیا کروں۔
اسی طرح روتے دھوتے چند ماہ اور گزر گئے۔ ایک دن جب کہ شام گہری ہو رہی تھی محمود دفتر سے آئے اور کھانا کھا کر لیٹ گئے میں ان کے پاس گئی کہ اگر طبعیت خراب ہو تو پوچھوں۔ میں نے دو تین بار ان کو آواز دی وہ نہ بولے میں آہستگی سے پاس بیٹھ گئی کہ سر دبا دوں وہ یک لخت پلٹے اور مجھے دھکا دے دیا۔ میں پیٹھ کے بل نیچے گر پڑی۔ اسی لمحے پگھلتا ہوا سیسہ میرے کانوں میں انڈیلا گیا۔
”جا اپنے کسی یار کا سر جا کے دبا میرے پاس کیا لینے آئی ہے“
یہ سن کر ایک لمحے کو میں سنسنا سی گئی پھر روتی سسکتی ان کے پاؤں پکڑ کے بیٹھ گئی۔
”آپ یہ مجھے کیسے طعنے دے رہے ہیں مجھ سے قرآن ضامن لے لیں کہ میرا کسی سے بھی آج تک تعلق نہیں رہا نہ اب ہے اور نہ آئندہ کبھی ہو سکتا ہے۔ آپ ہر طرح سے مجھے پرکھ لیں اور جو کچھ مجھ میں نظر آئے مجھے کہددیں۔ آپ کو ہر طرح سے اختیار ہے۔ آپ اپنے و ہم کو دور کر دیں“۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئے باتیں ہونے لگیں کہنے لگے
”میرے گھر میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں“
میرا قصور کیا ہے؟“ میں نے پوچھا
”نہ تو تم کام کرو۔ نہ تم میرے والدین کی خدمت کرو۔ نہ کسی سے تمہاری بول چال۔ شام کو دفتر سے جب بھی آتا ہوں شکایتیں ہی شکاتیں سننے میں آتی ہیں۔ تم تو کسی کو ایک دن بھی خوش نہیں رکھ سکیں۔ آخر اس لاتعلقی کی کوئی وجہ تو ہو گی۔
کام تو جتنا بھی کرسکتی ہوں کرتی ہوں لیکن آپ میری باتوں کا یقین ہی نہیں کرتے۔ یہ گھر کے کام اور کون کرتا ہے۔ اس کے باوجود آپ سے شکایتیں کی جاتی ہیں خوش رکھنے کی بات بھی بالکل ایسی ہی ہے جب یہ سب لوگ مجھ سے کسی طرح بھی راضی نہیں ہوتے تو آخر میں کیا کروں۔ آپ ہی کوئی طریقہ بتا دیں۔ جتنا میں کام کرتی ہوں اتنی ہی میں بری گنی جاتی ہوں۔ یا میرا مقدر ہی خراب ہے یا یہ کوئی میرا امتحان ہے“ میں نے بے بسی سے کہا:
”بس ہو چکا امتحان! تم ہماری جان چھوڑ دو اور جس شناسا کے پاس جانا چاہتی ہو چلی جاؤ“۔
میری سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ یہ مجھے ”کسی کے“ طعنے ہردم کیوں ملتے ہیں۔ یا تو یہ شخص ذہنی طور پر احساس کمتری کا شکار ہے اور میرا شوہر ہو کر بھی مجھے پہچان نہیں سکا اس کے دل میں گانٹھ بیٹھ چکی ہے کہ میں کسی اور کو چاہتی ہوں یا میرے خلاف اس کے کان بھرے جاتے ہیں

Previous Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *